ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاتما کے قتل کا جشن منانے والے آج برسراقتدار: سورا بھاسکر

مہاتما کے قتل کا جشن منانے والے آج برسراقتدار: سورا بھاسکر

Sun, 02 Sep 2018 11:24:28    S.O. News Service

جمہوریت میں سب کچھ کی آزادی، ملک توڑنے کی نہیں: راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی،2؍ستمبر(ایس او نیوز؍ ایجنسی)اپنی باتوں کو بلاجھجک اور کھل کر لوگوں کے سامنے رکھنے والی مشہور بالی ووڈکی مشہور اداکارہ سورا بھاسکر نے دہلی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران سماجی کارکنوں کی گرفتاری پر ایک بار پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کچھ مثالوں کے ذریعہ اس گرفتاری کوغلط قرار دیا اور کہا کہ’’خالصتان کا مطالبہ جب چل رہا تھا اس وقت پنجاب میں بھنڈران والا کو کچھ لوگ سَنت بلاتے تھے تو کیا ان کو جیل میں ڈال دیں گے۔ اس ملک کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی کا قتل ہوا، اس وقت کئی لوگ گاندھی کے قتل کا جشن منا رہے تھے۔ وہ لوگ آج برسراقتدار ہیں۔ کیا آپ انھیں جیل میں ڈالیں گے؟ اس کا جواب ’نہیں‘ ہے‘‘۔وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ ہمارے سماج میں لوگوں کو جیل میں ڈالنے کی جوعادت بن گئی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہر چیز کو جرم بتا کر کسی کو جیل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس طرح کا سماج ٹھیک نہیں ہے‘‘۔

آر ایس ایس اور بی جے پی کی ہندوتوا پر مبنی سیاست کو اکثر تنقید کا نشانہ بنانے والی سورا بھاسکر سوشیل میڈیا پر ہمیشہ اپنی بات رکھتی رہی ہیں اور حال ہی میں لیفٹ نظریہ رکھنے والے دانشمندوں کی گرفتاری کی بھی انہوں نے سخت مخالفت کی تھی۔ اسی گرفتاری کے سلسلے میں آج انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے د وران اپنا نظریہ بیان کیا۔ گرفتاریوں سے متعلق اپنی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے سورا بھاسکر نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہندوستانی جیلیں صرف رائٹرس، حقوق انسانی کارکنان اور معلم... اور بچوں کی جان بچانے والے ڈاکٹروں کے لئے ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ دنوں بھیما۔کورے گاؤں تشدد کے معاملے میں کچھ انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کے معاملے میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ جمہوریت میں سب کو بولنے کی، سب کچھ کرنے کی آزادی ہے، لیکن ملک توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لکھنؤ سے رکن پارلیمان راج ناتھ سنگھ نے لکھنؤ میں منعقد ایک پروگرام میں کہا کہ اس ملک کے جمہوری اقدار کی بات ہے تو حکومت اس کے لئے پابندِ عہد ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کے پانچ کارکنوں پر کارروائی کے سلسلے میں کہا کہ جن کی گرفتاری ہوئی ہے وہ پہلے بھی گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان پر الزام سچ ہے۔ کسی حکومت گرانے کی سازش کرنے ، تشدد کو فروغ دینے کیلئے اپنے نظریات کا سہارا لینے اور سب سے بڑی بات کسی ملک کو توڑنے کے لئے سازش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اس سے بڑا جرم کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حقائق کی بنیاد پر ہی مہاراشٹر پولیس نے کارروائی کی ہے۔

سنگھ نے کہا کہ کارروائی کے بعد میں نے وہاں کے وزیر اعلیٰ سے بات کی اور مکمل معلومات حاصل کیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اب معاملہ کورٹ کے زیر غور ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’پریشر ککر کو ہم دبانے کی کوشش نہیں کریں گے، جمہوریت میں سب کو بولنے کی آزادی ہے، سب کو چلنے کی آزادی ہے، سب کچھ کرنے کی آزادی ہے ؛ لیکن کسی کو ملک توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے اورتشدد کو فروغ دینے کی آزادی بھی نہیں دی جا سکتی ہے۔

سنگھ کا یہ بیان سپریم کورٹ کے گزشتہ دنوں کئے گئے تبصرہ کے پس منظر میں ہے، جس میں عدالتِ عظمیٰ کی بنچ نے کہا تھاکہ اختلاف جمہوریت کی روح ہے اور اگر مخالفت کی اجازت نہیں دیں گے تو یہ پھٹ جائے گا۔ سنگھ نے کہا کہ نکسلی 126 اضلاع سے سمٹ کر 10۔12 اضلاع میں رہ گئے ہیں۔ لیکن اب نکسلی دوسرا راستہ اپنا رہے ہیں۔ وہ شہروں میں آ گئے ہیں،وہ اپنے نظریات سے لوگوں کو متاثر کرنے کا کام کر رہے ہیں، یہ معلومات ایجنسیوں کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے سوال پر کہا کہ ہم نے بہتر تعلقات کے لئے سب کچھ کیا لیکن میں کہتا ہوں کہ پاکستان کو اپنی حرکتوں سے باز آنا پڑے گا۔ 


Share: